جامعہ عبد اللہ بن مسعو د خان پور

عالم اسلام کی عظیم اسلامی یو نیو رسٹی

جامعہ عبد اللہبن مسعو دخان پور

تحریر: مفتی محمد اسددرخواستی

جامعہ عبد اللہ بن مسعو دخان پور شیخ الاسلام ھافظ الحدیث حضرت مو لانا محمد عبد اللہ در خواستی نور اللہ مر قدہ کی عظیم الشان یاد گار اور ان کے خصو صی فیضان کا مظہر ہے ۔ وہ شیخ در خواستی جو 9محرم 1313ھ جمعتہ المبارک کے دن بستی در خواست میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے فیض یافتگان آج دنیا کے ہ رکو نہ میں خدمت دین میں مشغول نظر آتے ہیں ۔پاکستان ، انڈیا ، ایران ، مصر ، افریقہ ، امر یکہ ، بر طانیہ سعودی عرب ، بنگلہ دیش ،بحرین اور پوری دنیا میں یہ پھیلتا ہو ا فیضان در خواستی ہے فیض ہے۔آپ کی علمی و رو حانی و جاہت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے شیخ الحدیث سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین بھی آپ کے رعب سے کانپ جاتے ۔ تقریبا ساری زندگی قر آن و حدیث کی تدریس ، عوام الناس کی اعتقادی ، عملی ، روحانی ، اصلاحی اور بمعہ سند و متن حفظ الحدیث کے محبوب مشاغل میں بیتی ۔، آپ کی اندگی خدمت حدیث کے لیے وقف تھی اسی وجہ سے آپ کو حافظ الحدیث سے شہرت ملی ۔شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لا ہوریکی وفات حسرت آیات کے بعد مشرقی ومغربی پاکستان کے تمام جید علماء کرام کا یہ فیصلہ ہو ا کہ جمیعت علماء اسلام کی قیادت و امارات کا تاج شیخ الاسلام ھافظ الحدیث حضرت در خواستیکے سر پر رکھا جائے اور یہ منصب آپ کی باقی زندگی تک آپ کے ساتھ قا ئم رہا جو کہ 32بر سوں پر محیط ہے۔ آپ کی وفات 19ربیع الاول 1425ہجری اور آپ کا مد فن مشہور تاریخی قبر ستان دین پور شریف بنا۔، حضرت شیخ در خواستیہمیشہ جامعہ کی سر پر ستی فر ماتے رہے ۔ جامعہ آپ کی خصوصی دعائوں کا چمر ہے ۔ جامعہ عبد اللہ بن مسعودخان پور آج سے 24سال قبل شیخ در خواستیکے علمی جانشین شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مو لانا مفتی شفیق الرحمن در خواستی اور شیخ الحدیث حضرت مو لانا مفتی حبیب الر حمن در خواستی نے اپنے دست مبارک سے جامعہ کا سنگ بنیاد رکھا ۔ شیخ الا سلام ھافظ الحدیث حجرت در خواستیسے سب کچھ ملنے کا اعزازحاصل ہو ا تھا بعینہ اسی طر ح شیخ الحدیث مو لانا شفیق الرحمن در خواستی جوکہ جامعہ کے بانی و مہتمم بنے۔

جس طر ح حضرت در خواستیکو اپنے مرشد حضرت خلیفہ غام محمد دین پوریسے سب کچھ ملنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ بعینہ اسی طر ح شیخ الحدیث مو لانا شفیق الرحمن در خواستی کوحافظ الحدیث حضرت در خواستی سے وہی اعزاز حاص ہوا۔ حضرت الشیخ اپنے نانا حضرت در خواستی کی طر ح بیک وقت شیخ الحدیث و التفسیر چاروں سلاسل ( نقشبندیہ ، قادریہ ، چشتیہ ، سہر وردیہ ) میں مجاز تھے ۔ ایک عظیم ادارہ جامعہ عبد اللہ بن مسعودخانپو ر کے بانی و مہتمم اور جمیعت علماء الاسلام کل پاکستان کے سر پر ست ، مجلس علماء اہلسنت کے مر کزی امیر داعی الی اللہ ، مبلغ اسلام تھے ۔ آخر وقت تک شیخ السلام حضرت در خواستیکے مسلک و مشرب و سیاسی ذوق کے مطابق ان کے نظر یات پر کار بند رہتے ہو ئے جمیعت علما ء الا سلام سے وابستہ رہے ۔ آپ کے ہزا روں شاگر د ، مریدین ملک بھر و بیرون ممالک میں آپ کا فیض آگے پہنچا رہے ہیں ۔ آپ کی وفات 10شعبان 24اگست 2007ء میں جمعتہ المبارک کے دن ہوئی ۔ آپ کے برادر اصغر شیخ الحدیث و التفسیر مو لانا مفتی حبیب الرحمن صاحب در خواستی بانی و حال مہتمم و شیخ الحدیث و التفسیر جامعہ عبد ا للہ بن مسعودخان پورہیں ۔ آپ علم و دانش ، فہم و فراست میں اپنے نانا جان حافظ الحدیث حضرت در خواستی ، جنید وقت حضرت میاں عبد الہادی دین پوری اور برادر کبیر شیخ الحدیث حضرت مو لانا شفیق الرحمن در خواستیکے وارث اور جانشین ہیں ۔ اس کے علاوہ اپنی خداداد صلا حیتوں کے حامل گو یا کہ تمام خو بیوں کے ساتھ اپنی ذات میں گو یا ایک عزم ، ایک تحریک ، ایک انجمن ، ایک عہدے ہیں ۔ آپ نے بھی اسی مسند حدیث و التفسیر کو سنبھالا ہوا ہے ۔ ملک بھر میں جتنی اسلامی و دینی تحریکیں ،مثلا ً تحریک تحفظ ختم نبوت ، تحریک تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تحریک تخفظ مدارس دینیہ ، تحریک دفاع ناموس صحابہان تمام کے آپ سر خیل رہے اور جمیعت علمائے الاسلا م پنجاب کے صدور ، علماء و مبلگین کی معروف جماعت مجلس علماء اہلسنت و الجماعت کے امیر مر کزیہ اور تصوف و طریقت میں حضرت اقدس سید نفیس الحسینی شاہصاحب سے مشاورت فر ما کر 1987ء میں جامعہ کی بنیاد رکھی اور چار سال کے بعد حضرت شیخ الحدیث و شیخ التفسیر کے مسند وجامعہ کا اہتمام ان کے سپر د کے کر کے خود انتظامی امور سنبھال لئے ۔

2007ء میں حضرت شیخ الحدیث کی وفات کے بعد تا حال جامعہ کے شیخ الحدیث و التفسیر اور مفتی اعظم کے طور پر دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ جامعہ عبد اللہ بن مسعود سے اب تک 942علما ء کرام سند فراغت و دستار فضیلت حاص کر چکے ہیں جبکہ موجودہ سال بھی 26علماء کرام کی دستار بندی ہو گی ۔ جامعہ میں اب تک 1300سے زائد طلباء حفظ قرآ ن کریم کی سعادت حاصل کر چکے ہیں ۔ 32سے زائد جید اساتذہ اس شعبہ تعلیم میں کارہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہیں ۔ جامعہ میں درس نظامی ، شعبہ حفظ و ناظرہ ، شعبہ تجوید قرات ، شعبہ امتحانات ، شعبہ تعمیرات ، شعبہ اجرائو مکاتب و مدارس شینیہ ، لائبریری اور خصو صا ً عصری تعلیم میٹرک اور انگلش بو ل چال کو رسزاور کمپیو ٹر کو رسز کی تعلیم دی جا رہی ہے۔جامعہ کا سالانہ سہ روزہ روح پرور اصلاحی تبلیغی ، عالمی عظیم الشان اجتماع مسلسل 22واں اجتماع ہے ۔ جس میں ہر سال ہزاروں لو گ شر کت ہر تے ہیں ۔ جامعہ کا یہ سالانہ رو ح پرور اصلاحی تبلیغی اجتماع سابق روایات کیمطابق ہر سال پو ری شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہو تا ہے۔ جس میں اندرون و بیرون ممالک سے اہلسنت و الجماعت سے تعلق ر کھنے والے تمام اہم اسلامی سکالرز مشائخ عظام ، خطباء کرام اور اہل حق کی نمائندہ تمام جماعتوں ، جمیعت علما ء اسلام ، مجلس اہلسنت ، مجلس اہلسنت و الجماعت ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، انٹر نیشنل ختم نبوت مو ومنٹ ، مجلس احرار اسلام پاکستان ، پاکستان شریعت کو نسل ، وفاق المدارس العربیہ ، تنظیم اہلسنت وا لجماعت ، اتحاد اہلسنت و الجماعت اور اہلسنت وا لجماعت پاکستان کے نامور قائدین بین ا لا قوامی ایوارڈ یافتہ شعراء و معروف قراء شر کت کر تے ہیں ۔ جامعہ کا اجتماع ملک بھر کے تمام دینی مدارس کے اجتماعات میں سب سے بڑا اجتماع شمار ہو تا ہے۔ جس میں تقریبا ً تین دن رات میں مسلسل مختلف 25نشستیں منعقد ہو تی ہیں۔ جامعہ کا اجتماع بے شمار خصو صیات کے علاوہ اہل حق کی طا قت کا اظہار بھی ہے

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *