بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث شخص کو وزیر داخلہ بنانے کے بعد حکمرانوں سے عوام کسی خیر کی توقع نہ رکھے:سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع میجر(ر) تنویر حسین سید کا خصوصی انٹر ویو

28-8-12interview1

 

 

بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث شخص کو وزیر داخلہ بنانے کے بعد حکمرانوں سے عوام کسی خیر کی توقع نہ رکھے:سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع  میجر(ر) تنویر حسین سید کا خصوصی انٹر ویو

 

خان پور (ریاض بلوچ سے ) بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث شخص کو وزیر داخلہ بنانے کے بعد حکمرانوں سے عوام کسی خیر کی توقع نہ رکھے ایک طرف محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو دوسری طرف رحمان ملک اپنی کامیابی کا جشن منا رہے تھے ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع میجر (ر) تنویر حسین سید نے ”کے پی آر اپڈیٹ ” کو خصوصی انٹرویوکے دوران کیا جس میں انہوں نے کہاکہ میں نے بہت پہلے ہی کہاتھا کہ امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ہمارے بہادر قبائلی بھائیوںکا خون مت بہائیں وہ ہماری بغیر تنخواہ اسلامی فوج ہیں اپنی ہی فوج سے پاکستان کے علاقے فتح نہ کرائیں لیکن میری نہیں سنی گئی جس کا رزلٹ سب کے سامنے ہے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے افغانستان آنے سے پہلے پھر ان کے کہنے پر پٹھانوں کے خلاف ہماری اپنی ہی فوج نے ایکشن لیا یہیں سے بربادی کا عمل شروع ہوا اس جنگ کے نتیجہ میں کئی مرد اور عورتیں اور بچے شہید ہوئے جن کا بدلہ لینے کے لئے ان کے رشتہ داروں نے علم بغاوت بلند کیا ۔میجر (ر) تنویر حسین سید نے کہاکہ اس وقت سی آئی اے ،موساد ،خاد اور  را  چاروں دشمن ایجنسیوں نے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے ان کی صفوں میں گھس آئے سابق پارلیمانی سیکرٹری نے کہاکہ رحمان ملک ایک غدار انسان ہیں پہلے جس محکمے میں تھا اسے بے دردی سے لوٹا پھر پاکستان میں بلیک میلنگ کے ذریعہ پیسہ لوٹا اس پیسے سے دبئی اور انگلینڈ  میں جائیدادیں بنائیں بعدازاں بے نظیر کو قتل کرنے والے ٹولے کی دبئی میں میٹنگز کرائیں امریکہ سے این آر او کا وعدہ لیا پھر نے نظیر بھٹو کی گاڑی سے پچھلی گاڑی میں بیٹھ کر ٹارگٹ مہیا کیا جیسے ہی محترمہ بے نظیر کو گولی لگی یہ شخص وہاں سے بھاگ گیا بعدا زاں یہ  مشہور کردیا کہ محترمہ کو گولی کی بجائے گاڑی کا لیور لگا ہے اس غدار وطن کو اسی سلسلہ میں وزیر داخلہ بنایا گیا ۔میجر (ر) تنویر حسین سید نے کہاکہ محترمہ کے قاتل موجودہ حکومت کی گود میں بیٹھے ہیں انہوں نے مزید کہاکہ طے شدہ پلان کا دوسرہ حصہ یہ تھا کہ محترمہ کو قتل کراو پھر ہمددری کے ووٹوں سے پاور میں آو ،بین الاقومی میڈیا میں یہ شور برپا ہے کہ جتنے بھی ٹولے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے سرگرداں ہیں ان کے  لئے امریکہ خود اسلحہ بھیج رہاہے امریکہ بلوچستان کی صورت میں نیا اسرائیل وجود میں لانا چاہتاہے جیسا عرب ممالک کی بادشاہت کو دوام بخشنے کے بہانے خانہ کعبہ کو گھیرے میں لیاہوا ہے انہوں نے کہاکہ ہماری فوج فورا اپنے علاقوں سے کشمیر اور پاکستانی باڈر پر واپس آنی چاہئے اور بھارت کے ساتھ اپنا پانی کا حق لینا چاہئے اس کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنا چاہئے انہوں نے کہاکہ کشمیر میں فیصلہ کن جنگ کی تیاری کرنی چاہئے کیونکہ کشمیر حاصل کرنے سے ہمارے پانی کے مسائل حل ہوسکیں گے کشمیر آپریشن کے لئے سپیشل ٹرینگ فورس تشکیل دی جائے انہوں نے کہاکہ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا کہ سپر پاور روسی فوج کو حضرت خالد بن ولید  نے شکست نہیں دی تھی بلکہ اسے صفحہ ہستی سے ہی مٹادیا تھا فرق صرف اتنا تھا کہ اس کے بہادر قوم کے سپریم کمانڈر کو روم کا سفیر ملنے آیا تو حضرت عمر فاروق  کو ایک کجھور کی چٹائی پر بیٹھا ہوا پایا تو وہ کہہ اٹھا کہ جس قوم کے کمانڈر کی یہ حالت ہو وہ قوم کبھی شکست نہیں کھا سکتی مگر پاکستان میں یہ حالت ہے کہ ہمارے صدر مملکت اپنی اولادوں کے ذاتی پروگراموں میں شرکت کے  لئے سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے لئے بڑے ڈھٹائی اور فخریہ انداز میں وزراء کے بیانات چھپتے ہیں ،گیارہ روپے لیٹر ملنے والا پیٹرول عوام کو 100روپے سے زائد ملتا ہے اگر ہم تھرکول منصوبے سے بجلی بنا لیتے تو سعودی عرب سے بڑا نظام توانائی ہمارے پاس موجود ہوتا اور عوام کو اگلے 500سال تک دوروپے فی یونٹ بجلی مہیا ہوتی انہوںنے کہاکہ آغا وقار جیسے قابل ترین انجینئر کو پانی سے گاڑی چلانے کے کامیاب تجربے کے باوجود حکومت امریکی اور غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر اس منصوبے کو دبا چکی ہے ،میجر (ر) تنویر حسین سید نے مزید کہاکہ اگر پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کو حکمرانی کا مزید وقت ملا تو مشرقی پاکستان کے سانحہ جیسے دوسری واقعات رونما ہوسکتے ہیں اور ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ بھی موجود ہے ان حالا ت میں مخلص اور محب وطن لیڈروں کی ضرورت ہے عوام کو آنے والے انتخابات میں اپنی ووٹ کی اہمیت جان کر روایتی وراثتی اور ٹھگ سیاستدانوں کی بجائے محب وطن قیادت کو سامنے لانا ہوگا ۔

 

 

 

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *