خا ن پور کی ادبی شخصیات کا تعارف

Khanpur ki adbi1

خا ن پور کی ادبی شخصیات کا تعارف

 

حفیظ شاہد

منفرد لہجے ،ندرت خیال اور بلند تخیل کی کلاسیکی کے علمبردار حفیظ شاہد کہنہ مشق شاعر اور استادالشعراءہیں ۔اس دور کے چند غزل گو شعراء میں شمار ہوتے ہیں ڈاکٹر وحید قریشی ،ڈاکٹر عبادت بریلوی ،ڈاکٹر سہیل آغا اور عارف عبدالمتین مرحوم جیسے نقاروں نے ان کے شعری مجموعہ مقدمے میں لکھ کر ان کی شعری عظمت کا اعتراف کیا ہے کسی زمانے میں فلمی گیت بھی لکھے حفیظ جالندھری اور احسان دانش کی مجالس میں اپنا کلام پیش کرکے داد سخن پائی ،عبدالحفیظ ،قلمی نام حفیظ شاہد نے 15جون 1942میں چوہدری خیر دین کے ہاں لاہور میں آنکھ کھولی ان کے آباواجداد کا تعلق گڑھا ضلع جالندھر مشرقی پنجاب سے تھا ان کے کلام میں رچاؤ،چاشنی اور تعزل کی کشش موجود ہے الفاظ وتراکیب کا انتخاب ،مصرعوں کی بنت اور اشعار میں شعری تلازمات کا استعمال حفیظ شاہد کے کلام کے محاسن ہیں حفیظ شاہد اس وقت اتفاق کاٹن جنرز خان پو رکے منیجر ہیں ان کے پانچ شعری مجموعے ’’سفر روشنی کا ‘‘’’چراغ حرف‘‘’’مہتاب غزل‘‘’’یہ دریاپارکرنا ہے ‘‘’’سفر روشنی کا ‘‘بہ ترمیم واضافہ شائع ہوکر دنیائے ادب سے تحسین حاصل کرچکے ہیں کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ جدیدلہجہ رکھتے ہیں۔

 

 

 

 

آسی خان پوری

محمد نیاز آسی خان پور ی پیشےکے لحاظ سے وکیل ہیں ادبی تقاریب کرانے میں بہت فعال رہے انہوں نے غزل میں سماجی مسائل کے اظہار کے باوجود اس کے حسن کو پامال نہیں کیا ان کی شاعری میں فرد کی داخلی اور خارجی کیفیات کےسارے رنگ ملتے ہیں ’’چلواب چھوڑ دو‘‘ ’’رنجش‘‘’’موسم یہ خزاں جیسا‘‘مجموعہ کلام شائع ہوچکے ہیں بچو ں کی نظموں پر مشتمل مجموعہ ’’صلح کے بعد ‘‘ بھی منظر عام پر آچکا ہے ناول ’’شرارسنگ ‘‘بھی شائع ہوا خان پو رسے ادبی پرچہ ’’ادوار‘‘ بھی نکالتے رہے 2004میں خان پور سے لاہور منتقل ہوگئے

 

 

 

 

نردوش ترابی

نردوش ترابی جن کا اصل نام صفدر حسین نقوی ہے پنڈ داد خان ضلع چکوال میں پید ا ہوئے تعلیم سے فراغت کےبعد بطور معلم عملی زندگی کا آغاز کیا بیس سال تک ترقی تعلیم ڈگری کالج خان پو رمیں تعینات رہے 1988میں ان کا تبادلہ ایف سی کالج لاہور ہوگیا منقبت ،غزل ،نظم ،مرثیہ کہتے ہیں ان کا کلام انسانی جذبوں کا آئنہ ہے خان پو رسے شرو ع ہونے والا تخلیقی سفر لاہور کے ادبی حلقوں میں ان کی پہچان بنا ۔

 

 

 

 

صفدر صدیق رضی

ان کا بنیادی تعلق خان پور سے ہے 1989میں کراچی چلے گئے ادبی رسالہ ’’ادوار‘ میں آسی خان پوری کی معاونت بھی کرتے رہے ترنم کے ساتھ شعر پڑھتے ہیں کراچی میں انہوں نے اپنی شناخت بنا لی ہے اکثر ٹی وی پر مشاعرے پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں حمد ،نعت ،غزل اور نظم کہتے ہیں

خلا میں چاند ستارے تری نوا کے رنگ

چمن میں غنچہ وگل تری خاک پا کے رنگ

سنور گیا تیر ی آمد سے دوجہا ں کا نصیب

بدل گئے بنی آدم کے ارتقاء کے رنگ

نردوش ترابی

 

 

 

 

اسد حسین ازل

اس حسین کا بنیادی تعلق خان پور سے ہے ان کا کلام کا مجموعہ ’’دشت انا ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے غزل،نظم ،گیت ان کی پہچان ہیں ان کے پاس 1955ھ 1965تک خان پور کی ادبی سرگرمیوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے فلمی دنیا میں بہت فعال ہیں ان کے کلام کا رنگ رومانوی ہے۔

 

 

 

 

حیدر قریشی

حیدر قریشی خان پور کی پہچان رہے ہیں غز ل ،نظم ،ماہیا ،ہائیکو ،قطعہ اور ثلاثی میں طبیعت رواں ہے ،ماہیا نگاری میں ملکہ حاصل ہے اس صنف میں انہوں نے اپنی منفرد پہچان بنائی ۔ان کا شمار اس دور کے چند بڑے ماہیانگار وں میں ہوتا ہے ان کا کلام پاک وہند کے ادبی رسالوں میں شائع ہوتا رہتاہے ایک ادبی رسالہ ’’جدید ادب ‘‘ کے نام سے خان پور سے نکالتے رہے 1991میں جرمنی چلے گئے اب جدید ادب جرمنی سے شائع کرتے ہیںیہ رسالہ انٹر نیٹ پر بھی جاری ہوتا ہے اظہر ادیب کے ساتھ مل کر بہاول پور ڈویژن کے شعراء کے کلام کا انتخاب ’’کرنیں ‘‘ کے نام سے شائع کیا ۔

 

 

 

 

مجاہد جتوئی

مجاہد جتوئی 22جولائی 1951میں راز جتوئی کے گھر خان پور میں پید ا ہوئے بطور محقق ،مترجم اور شاعر پہچان بنا چکے ہیں ایک طویل عرصہ تک سرائیکی تحریک سے وابستہ رہے اب ان کی تمام ترتوجہ فریدیات پر ہے جس میں انہوں نے فریدیات کے ایسے پہلو ؤں پر کام کیا ہے اور کررہے ہیں جن پر یا تو پہلے کام نہیں ہوا یا ہوا تو بہت کم سرائیکی میں شاعری بھی کرتے ہیں فریدیات پر ان کی مندرجہ ذیل کتابیں شائع ہوئی ’’اطوار فرید ‘‘’’مسلک فرید‘‘’’مناقب محبوبیہ‘‘’’مٹھن خان کون تھا‘‘’’تجزیہ کلیات فرید ‘‘ ’’کلام فرید میں الحاق کے مسائل‘‘’’فرزند فرید‘‘’خواجہ فرید 222سوال‘‘ ایک کتاب ’’جیسا میں نے سوچا‘‘ سرائیکی کاز کے حوالے سے ہے ۔

 

 

 

 

یاور عظیم یاور

فرحان علی اپنے قلمی نام یاور عظیم یاور کے نام سے معروف ہیں 11جنوری 1984میں ڈاکٹر عنایت اللہ (خان پور کی معروف ڈینٹلسٹ ) کے ہاں خان پور میں پید ا ہوئے گریجویشن کرچکے ہیں شاعری کا آغا ز 2003میں کیا استادسخن حفیظ شاہد ہیں غزل نظم اور قطعہ میں طبیعت رواں ہے کلاسیکی روایات کے علمبردار ہیں۔

؎جس میں شامل ہون ہ میری سوچ کا تازہ لہو

اس غزل می کچھ کمی محسوس ہوتی ہے مجھے

ان کا آنا صرف خوابوں تک مرے محدود ہے

 

رابطہ ہوتے ہوئے بھی رابطہ کوئی نہیں

 

 

 

کریم بخش شعیب

شعیب 1964ھ میں عبدالعزیز کے گھر پیر ابلوچ میں پید ا ہوئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے گریجویشن کیا شاعری کا آغاز 1982میں کیا استاد سخن قاصر جمالی ہیں اپنے کلام میں اہل مغرب کے عالم اسلام کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے ،اسلام دشمنی اور جارحیت کو خاص موضوع بنایا ہے 1985سے سلسلہ روزگار سعودی عرب میں مقیم ہیں ایک کتاب ’’یوسف ابھی زنداں میں ہے ‘‘ شائع ہوچکی ہے ۔

 

 

 

 

ایم یوسف وحید

4اپریل 1986ھ میں خان پور میں پیدا ہوئے بہت اچھے مضون نگار اور کہانی نویس ہیں بچوں کی بھی کہانیاں لکھتے ہیں ان کے مضامین روزنامہ جنگ میں شائع ہوتے رہتے ہیں ایک بچوں کا رسالہ (بچے من کے سچے) خا ن پور سے نکالتے ہیں یہ خان پور سے شائع ہونے والابچوں کا پہلا رسالہ ہے الوحید ادبی اکیڈمی کے بانی ہیں اس اکیڈمی کے سرپرست فاروق القادری ہیں ۔

 

 

 

 

شمسہ اختر ضیاء

یہ 1950میں پیدا ہوئیں ایم اے اردو ایم فل اور ایک مقامی سکول میں ہیڈمسٹریس ہیں ،اہل زبان ہیں آباواجداد کا تعلق بھوپال سے تھا ان کے نانا قادر اکلام شاعر تھے گھرانہ علمی وادبی تھا گھر میں ہونے والی ادبی مجالس نے ان کے ادبی ذوق کو جلا بخشی ،غزل ،نظم کہتی ہیں مضامین اور انشایئے بھی لکھتی ہیں ان کی تخلیفات اخبارات ورسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں انہوں نے نظم معری پر بہت ذیادہ کام کیاہے کلام کا رونگ رومانوی ہے کہیں کہیں حقیقت پسندی کی جھلک بھی نظر آتی ہے ۔

 

 

 

 

رفیق راشد

رفیق راشد کلاسیکی روایات کے پاسدار ہیں ا ن کے کلام میں پرانے مضامین اور روائتی بندشوں کی خوشبو چی ہوئی ہے حالی اور اقبال سے شدید متاثر تھے اپنی غزل میں ملی ،اخلاقی اور مذہبی مضامین باندھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں18جون 1932میں امرتسر مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے تعلیم سے فراغت کے بعد درس تدریس کا پیشہ اپنا لیا تھا قطعہ غزل اور نظم کہتے تھے اصلاح سخن عبدالرحمان آزاد مرحوم اور گلزار نام صابری مرحوم سے لی مجموعہ کلام’’ نوائے فروزاں‘‘ اور ’’چراغ آگہی ‘‘ لکھی ۔

 

 

 

 

نادم صابری

گلزار احمد نادم صابری نے حفیظ جالندھری کے ’’شاہنامہ اسلام ‘‘کی طرز پر ’’شاہنامہ حسین ‘‘ لکھ کر اپنی قادرالکلامی کا ثبوت دیا ایک کتاب ’’گلزار نعت ‘‘ بھی شائع ہوئی حمد نعت ،منقبت اور غزل میں طبع آزمائی کی ان کے کلام پر مذہبی رنگ چھایا ہوا ہے۔

 

 

 

 

عبدالرحمان آزاد

محسن خان پور کی صاحبزادے تھے باب کی طرح یہ بھی استاد الشعرا اور قادرالکلام شاعر تھے کئی کامیاب کل پاکستان مشاعرے کروائے بنیادی تعلق بریلی سے تھا اہل زبان تھے ہر مصنف سخن میں اپنے جوہر دکھائے استادسخن فانی بدایوانی تھے درس وتدریس کے شعبے سے منسلک رہے انہیں عباسیہ لٹریری سوسائٹی کی طرف سے ’’امیرالکلام ‘‘کاخطاب دیاگیا نقوی احمد پوری ،رفیق راشد،اور حیدر قریشی ان کے شاگردوں میں سے ہیں۔

 

 

 

 

شاہ مغفور القادری

ان کا تعلق بہاول پور سادات سے تھا 1326ھ میں سیدسردار شاہ کے ہاں پیدا ہوئے حفظ قرآن اور درس نظامی کی تحصیل کے بعد بھر چونڈی شریف کے دارلعلوم میں مدرس مقرر ہوئےبیس سال تک علمی خدمات سرانجام دیں تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے احیاء اسلام کے نام سے تنظیم بنائی ،1946میں بنارس میں ہونے والی سنی علماء کی کانفرنس میں شرکت کی منکسر المزاجی اور تواضع ان کی طبیعت کے خاص جوہر تھے ،حلقہ ارادات بہت وسیع ہے شاعر ی بھی کی لیکن نعت گوئی کی حدتک ان کی بہت سی تصانیف ہیں جن میں ’’اعباد الرحمان ‘‘خصوصی اہمیت کی حامل ہے اپریل 1970میں وفات پائی گڑھی اخیتار خان میں مدفون ہیں۔

 

 

 

 

محسن خان پوری

محسن خان پوری ماسٹر عبدالرحمان آزاد کے والد تھے ۔ان کی شہرت ریختی سے ہوئی لیکن ان کی ریختی یہاں کے ماحول پنپ نہ ہوسکی جب وہ ہندوستان میں تھے تو اہل لکھنو نےا نکی ریختی اور انکی صلاحتیوں کو سراہا مشق سخن کا آغاز دور طالب علمی سے کیا اہل زبان اور قادر الکلام شاعر تھے (دیوانی ریختی)( خواب سرشار )( مثنوی قہر عشق) شائع ہوئیں بہاول پور کی بدانتظامیوں پر طنزیہ نظمیں لکھیں ۔

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *