خان پور میں پولیو مہم کی ناکامی کا بھانڈہ پھوٹ گیا مبینہ پولیو کا شکار 3بچے اہل علاقہ نے کے پی آر اپڈیٹ ٹیم کے سامنے لاکھڑے کر دیئے

27-01-13polio chaild2

 

خان پور میں پولیو مہم کی ناکامی کا بھانڈہ پھوٹ گیا مبینہ پولیو کا شکار 3بچے اہل علاقہ نے کے پی آر اپڈیٹ ٹیم کے سامنے لاکھڑے کر دیئے

خان پور (رپورٹ فیاض بلوچ سے) خان پور میں پولیو مہم کی ناکامی کا بھانڈہ پھوٹ گیا ،محکمہ صحت کی ٹیمیں زبانی جمع خرچ پر اکتفا کرنے میں مصروف شہری علاقوں میں مبینہ پولیو کا شکار 3بچے اہل علاقہ نے کے پی آر اپڈیٹ ٹیم کے سامنے لاکھڑے کر دیئے خا ن پور کے شہری علاقہ محلہ ملک آباد میں 4سالہ محمد عمیر ولد غلام شبیر جوکہ مبینہ طور پر پولیو میں مبتلا ہے اس کی دادی امیر خاتون نے بتا یا کہ علاقہ میں پولیو کے قطرے پلانے کے لئے ان گھر کبھی کوئی ٹیم نہیں آئی پولیو کا شکار اسی علاقہ کے 3سالہ محمد یونس ولد اشفاق احمد کی دادی نجمہ بی بی نے بتایا کہ انہوں نے بچے کو تمام حفاظتی ٹیکے لگوائے ہیں مگر پھر بھی یہ ایک ٹانگ سے معذور ہوگیا ہے علاقہ میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیمیں ان کے گھر بھی کبھی نہیں آئیں جبکہ مبینہ طور پر پولیو کا شکار تیسرے 7سالہ بچے بلال احمد ولد منیر احمد کا تعلق تھہیم آباد سے بتایا جاتا ہے اس کے لواحقین نے بھی اسی قسم کی شکایت کی ،اہل علاقہ نے بتایا کہ شہری علاقے ہونے کے باوجود محکمہ صحت کی ٹیمیں پولیو مہم کے دوران یہاں مکمل طو ر پر کام نہیں کرتیں اہل علاقہ نے بتایا کہ محکمہ صحت خان پور میں پولیو مہم بارے صرف کاغذی طور پر کام میں مصرو ف ہے اور اعلیٰ افسران کو صرف سب اچھا ہے کی رپورٹس پر خوش کردیا جاتاہے ان تینوں متاثرہ بچوں کے لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ غفلت کے مرتکب ملازمین کے خلاف کاروائی کی جائے جبکہ ڈی سی او رحیم یارخان نبیل جاوید نے ای ڈی او ہیلتھ رحیم یارخان ڈاکٹر فیاض احمد کو ہدایات جاری کیں کہ ان کیسز پر فوری توجہ دیکر واپسی رپورٹ کریں جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر آغا توحید نے رابطہ کرکے کہاکہ ہماری موبائل اور گشتی ٹیموں کی یہ ناکامی ہے کہ یہ تینوں کیسز محکمہ کو رپورٹ نہیں ہوئے نشاندہی کرنے پر کے پی آر اپڈیٹ ڈاٹ کام ٹیم کے شکر گزار ہیں انہوں نے کہاکہ ان تینوں بچوں کو فی الحال پولیو سے متاثرہ ہونے کا حتمی طو ر پر نہیں کہا جاسکتا ایسے کیسز کو ہم (A.F.P) کیسز کے زمرہ میں شمار کرتے ہیں ان کے ابھی ٹیسٹ نمونے لیکر لیبارٹری روانہ کیا جائے گا اور پولیو کی تصدیق پاکستان میں نہیں بلکہ (W.H.O) نے کرنی ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ پولیو سے ملتی جلتی 9دیگر بیماریاں بھی ہیں ابھی حتمی طو ر پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم جنوری کے مہینہ میں خان پو رمیں کوئی (A.F.P) کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا تھا ان کیسز کے سامنے آنے پر یہ کہاجاسکتا ہے کہ یہ سروے کرنے والی ٹیموں کی کوتاہی ہے جن کے خلاف کاروائی کریں گے دریں اثنا اہل علاقہ نے محکمہ صحت کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ کیسز 7سے 3سال پرانے ہیں اتنی بڑی غفلت کو کیا کہا جائے اہل علاقہ نے سیکرٹری صحت پنجاب ،اور وزیرا علیٰ سمیت (W.H.O) اور یونیسیف کے اعلیٰ حکام سے ان متاثرہ تینوں بچوں کے فوری علاج کا مطالبہ کیا ہے

 

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *