ضلع رحیم یارخان کی سیاست چہہ مگویوں اورا سکینڈلز کی زد میں

Articale Riaz Bloch1

 

       تحریر: ریاض احمد بلوچ  

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمدنواز شریف نے گزشتہ دنوںمحسن آباد ضلع رحیم یارخان کا دورہ کر کے وہاں جلسہ عام سے خطاب کیا یوں تو اس جلسہ میں کارکنوں کی تعداد قابل ذکر اور ہزاروں میں تھی مگر ضلع بھر سے کسی بھی قد آور سیاسی شخصیت کا مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان نہ ہونے کے باعث سیاسی حلقوں میں اس دورہ اور مسلم لیگ (ن) کے ضلع میں سیاسی مستقبل کے حوالے سے کافی لمبی بحث چھڑ گئی ہے اس سے قبل نومبر 2012ء میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے دورہ رحیم یارخان میں ضلع بھر سے انتہائی متحرک اور قد آور سیاسی شخصیات نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تھا ان میں قابل ذکر سابق وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور ظفر اقبال وڑائچ ، سابق ضلع ناظم سردار رفیق حیدر خان لغاری ، سابق صوبائی وزیر مال شوکت دائود ، خان پور میں سیاسی بادشاہ گر شیخ فیاض الدین اوران کے سیاسی شاگرد سابق نائب صدر چیمبر آف کامرس رحیم یارخان چوہدری محمدسلیم بھلر ، سابق تحصیل نائب ناظم حاجی محمدارشد جاوید، سابق صدر بار رحیم یارخان اورصوبائی ٹکٹ ہولڈر ممتاز مصطفی ایڈووکیٹ ، سابق وفاقی وزیر و آئینی امور کے ماہر حاجی سیف اللہ کے بیٹے میاں سمیع اللہ سمیت دیگر شامل ہیں اس دورہ کو انتہائی کامیاب اس لیے بھی کامیاب کہا جا سکتا ہے کہ ایک ایسی پارٹی جو نہ تو برسراقتدار ہے اور نہ ہی ابھی تک ان کے پاس کوئی بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کی سیٹ ہے اس کے باوجود اتنی بڑی شخصیات کا پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنا کسی بہت بڑے سیاسی دھماکے سے کم نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔

ضلع رحیم یارخان کو موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی کے حوالے سے منی لاڑکانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا جہاں ضلع کی 13 صوبائی نشستوں میں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ 11 صوبائی نشستیں پیپلز پارٹی کے پاس ہیں جبکہ ایم این اے کی 6میں سے 5 نشستیں بھی پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں ہیں۔ ضلع رحیم یارخان کی صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر نگاہ دوڑائی جائے تو صوبائی حلقہ پی پی 285 میں غضنفر لنگاہ کا تعلق پیپلز پارٹی ، 286 میں قاضی احمدسعید کا تعلق مخدوم احمد محمود کی وجہ سے اب پیپلز پارٹی، 287میں کرنل نوید ساجد کا تعلق پیپلز پارٹی سے ، 288 میں میاں شفیع محمد کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے مگر موجودہ حمایت پیپلز پارٹی کی طرف ، 289 میں میاں محمداسلم ایڈووکیٹ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ، 290میں چوہدری اعجاز شفیع کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے مگر موجودہ حمایت یونی فکیشن گروپ کے ذریعے (ن) لیگ کی ، 291 میں مخدوم ارتضیٰ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ، 292 سے مصطفی محمودکا تعلق پیپلز پارٹی سے ، 293 میں پیپلز پارٹی کے حسن داد گجر ، 294میں جاوید اقبال ڈھلوں بھی پیپلز پارٹی سے ہیں ، 295 عبدالقادر گیلانی کی وجہ سے خالی ہے مگر وہ سیٹ بھی پیپلز پارٹی کی شمار ہوگی ضلع کی آخری سیٹ 296 پر چوہدری شفیق مسلم لیگ (ن) سے ہیں جبکہ پی پی 297 پر بھی رئیس ابراہیم کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اس طرح مسلم لیگ (ن) کے حصہ میں پنجاب کی صرف ایک سیٹ اس ضلع میں ہے اسی طرح قومی حلقہ پر نگاہ دوڑائی جائے تو این اے 192میں حامد سعید کاظمی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ، این اے 193 میں میاں عبدالستار، این اے 194 سے مخدوم شہاب الدین کا تعلق پیپلز پارٹی سے ، این اے 195 سے مرتضیٰ محمود ، این اے 196 سے جاوید اقبال وڑائچ سے بھی پیپلز پارٹی کے ہیں صرف این اے 197 پر ارشد لغاری مسلم لیگ (ن ) کے ایم این اے ہیں اسطرح کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر زمینی حقائق یہی ہیں کہ ضلع رحیم یارخان پیپلز پارٹی کی کامیابیوں کے حوالے سے لاڑکانہ کو بھی مات دے گیاہے۔ مگر اب انٹرنیشنل سطح پر رسوائے زمانہ حج سکینڈل اور ایفی ڈرین کیس نے ضلع رحیم یارخان پیپلز پارٹی کی بنیادوں کو کھاکھلا کر کے رکھ دیاہے اس پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان سکینڈلز میں ملوث حامد سعید کاظمی ، مخدوم شہاب الدین وغیرہ کی پارٹی ٹکٹیں کافی مشکوک نظر آتی ہیں کیونکہ سیاسی اعتبار سے آصف علی زرداری ان نازک حالات میں کوئی بھی ایسا فیصلہ کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے جس کی وجہ سے ہونے والے عدالتی فیصلوں کے بعد میں پارٹی کو کوئی نقصان کے اثرات نظر آتے ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے الیکشن میں ایک انٹر نیشنل سروے کے مطابق پاکستان میں 8سیاسی جماعتوں میں سے مسلم لیگ (ن) پہلے نمبر پر تحریک انصاف دوسرے جبکہ پیپلز پارٹی موجودہ حکومت اور اس میں پیدا شدہ بحرانوں کی وجہ سے تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے خیال یہ کیا جا رہا تھا کہ میاں نواز شریف کے 11 فروری کے دورہ پر مخدوم خسرو بختیار اپنے پورے سیاسی سیٹ اپ کے ساتھ (ن) لیگ میں شمولیت کا اعلان کرنے والے تھے مگر ان کا یہ فیصلہ اچانک تبدیل کیوں ہوا اس کی وجوہات آئندہ چند روز میں سامنے آ سکتی ہیں۔ حج سکینڈل ایفی ڈرین ، سوئیس اکائونٹس ، رینٹل پاور سمیت اسی قسم کے دیگر اہم کیسوں جو کہ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں کے فیصلے بھی آنے والے الیکشن کے انعقاد پر اثر انداز ہونے کی دلیل کو کسی صورت بھی رد نہیں کیا جا سکتا کم از کم حامد سعید کاظمی اور مخدوم شہاب الدین سمیت ان سکینڈلز میں مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کی سیاسی قسمت کا فیصلہ عدالتی فیصلوں پر ہی منصر ہوگا اب اگر خان پور میں نگاہ دوڑائی جائے تو یہاں (ن) لیگ کی این اے 193 کی سیٹ پر کوئی امیدوار ابھی تک سامنے نہیں لایا جاسکا ، میاں غوث محمد ، چوہدری محمدارشد جاوید ، چوہدری مسعود احمد ، شیخ فیاض الدین، سیٹھ محمداکبر، جعفر اقبال گجر، عشرت اشرف، سمیت دیگر کئی لوگوں کے نام تو وقتاً فوقتاً سیاسی جھروکوں میں سامنے آتے ہیں مگر حتمی طور پر آخری ایام سر پر آنے کے باوجود فیصلہ نہیں ہو سکا جو کہ مسلم لیگ (ن) جیسی بڑی سیاسی جماعت کے لیڈران کیلئے انتہائی لمحہ فکریہ ہے این اے 193 کی طرح ضلع کی دیگر سیٹوں پر بھی مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں صوبائی اور قومی سیٹوں پر کارکنوں اور قد آور سیاسی شخصیات کے دھڑے بنے ہوئے ہیں یہی صورتحال پی پی 290پر بھی نظر آتی ہے یہاں بھی کئی امیدوار مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے بنے ہوئے خیالی پلائو پکانے میں مصروف ہیں البتہ ان سب امیدواروں کو پاکستان تحریک انصاف کے متوقع امیدوار چوہدری محمد سلیم بھلر خاصا اپ سیٹ کر سکتے ہیں اگر (ن) لیگ نے این اے 193 پر میاں عبدالستار یا چوہدری محمدارشد جاوید کا فیصلہ کر لیا تو میاں عبدالستار کو چولستانی علاقوں میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے اسی طرح سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوہدری محمد سلیم بھلر کے انتخابی اکھاڑے میں اترنے کا فیصلہ ان کے والد چوہدری محمدیٰسین بھلر اور ان کے سیاسی استاد شیخ فیاض الدین کی رضا مندی پر مشروط ہے تاہم مسلم لیگ (ن) کی طرف سے حلقہ 290میں چوہدری محمداعجاز شفیع کا ٹکٹ تقریباً کنفرم کر دیا گیاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیر صاحب پگاڑہ رواں ہفتہ میں چولستان کے علاقہ ہیڈ فرید پر دورہ کر کے جلسہ میں مریدین سے خطاب کریں گے ان کے دورہ کے موقع پر اگر انہوں نے مسلم لیگ (ن) یا کسی بھی سیاسی شخصیت کی حمایت کا اعلان کیا تو چولستان کے علاقہ میں 12 سے 15 ہزار ووٹ اس جماعت یا شخصیت کو ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے میاں عبدالستار ایم این اے کو گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے کے مصداق ان کے چھوٹے بھائی میاں غوث محمد نے ہر طرف سے سیاسی طور پر پریشان کر رکھا ہے ایفی ڈرین کیس کے حوالے سے اگر پیپلز پارٹی کوئی فیصلہ کرتی ہے تو پھر دوسرا امیدوار ان کا بھائی بھی ہو سکتاہے تاہم مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بھی میاں غوث محمد کو پارٹی ٹکٹ دینے کے واضح اشارے موجود ہیں خان پور کے صوبائی حلقہ 290 میں موجودہ ایم پی اے چوہدری محمداعجاز شفیع نے اپنے ناراض دوستوں کو منانے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ تقریباً مکمل ہو گیا ہے اس کی وجہ سے ان کی پوزیشن ایک بار پھر کافی اوپر چلی گئی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم لیگ(ن) ضلع رحیم یارخان میں اپنا سیاسی قد بڑھانے پاکستان پیپلز پارٹی موجودہ سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے اور پاکستان تحریک انصاف کو اپنی تیزی سے حاصل کامیابوں کے اہداف کو مزید تیز کرنا ہوگا موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی کی طرف سے مخدوم احمد محمود کو پنجاب کا گورنر بنا کر ضلع رحیم یارخان میں اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط کرنے کا موقع ملا ہے اور آئندہ چند دنوں تک تحریک انصاف کے عمران خان کا دوبارہ ہونے والا دورہ رحیم یارخان بھی کئی سیاسی وکٹیں گرانے کا سبب بن سکتاہے تاہم فروری کے آخری ایام پاکستان کی طرح ضلع رحیم یارخان کی سیاست میں بھی اکھاڑ پچھاڑ اور تبدیلوں کا عندیہ دے رہے ہیں ۔                       

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *