مختلف علاقوں میں سکول بھوت بنگلہ بن گئے سرکاری عمارتوں میں بااثر افراد کے ڈیرے قائم

14-03-2013school1

 

خان پور (نمائندہ خصوصی) عدالت عظمی سپریم کورٹ کے حکم پر سول جج خان پور قیصر مختیار نے مرکز سہجا کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 4 بھوت سکولوں کو پکڑ لیا ان سکولوں کی سرکاری عمارتوں میں باا ثر افراد کے ڈیرے قائم اور متعدد میں مویشی اور کھتی باڑی کی گئی ہے موضع کوٹلہ مفرزدین مرکز سہجا میں ایک گرلز پرائمری سکول بستی لعلو خشک میں مقامی نمبردار عبدالمالک خشک نے مویشی باندھ رکھے تھے جبکہ سکول کے کمروں میں جانوروں کا چارہ توڑی اور دیگر سامان موجود تھا س سکول کی چار دیواری کی اینٹیں چوری ہوچکی تھیں اور باتھ روم گھر کے استعمال میں تھے جبکہ اس بستی میں ڈائریکٹ کنڈیاں لگا کر بجلی بھی چوری کی جارہی تھی سول جج قیصر مختیار نے اپنے عملہ محمد عارف شینو ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر زنانہ مسز پروین رحمان اور دیگر کے ساتھ گرلز پرائمری سکول دنیا پور کا دورہ کیا جہاں مقامی زمیندارکے مویشی بندھے ہوئے تھے یہاں باتھ رومز تو موجود تھے مگر بلڈنگ غائب تھی اسی طرح بستی جام نواز میں قائم گرلز پرائمری سکول پر سابق ناظم یونین کونسل سہجا جام محبوب نواز کا قبضہ تھا چار دیواری غائب اور سکول کا حصہ فصلوں کی کاشت میں تھا اسی طرح چک 69پی کے سکول کی جگہ پر بھی بلڈنگ غائب تھی سابق سابق ایم پی اے سیٹھ محمد اسلم کے علاقہ چک 35پی کے مسجد مکتب سکول کی بلڈنگ خستہ حال تھی کھڑکیاں دروازے میٹریل غائب تھا جس کے بارے میں سابق ایم پی اے کے منیجر نے بتایا کہ اس کا کچھ میٹریل ہمارے پاس محفوظ ہے محکمہ تعلیم کی اس نااہلی پر سول جج قیصر مختیار نے حیرانگی کا اظہار کیا جبکہ محکمہ تعلیم کی طرف سے بتایا گیا کہ ان سکولوں کو 2010ء سے ریپرنگ سمیت دیگر فنڈز مہیا نہیں کئے گئے تمام بوگس بھوت سکولوں کی مکمل رپورٹس عدالت عظمی کو روانہ کردی گئی ہے ۔۔

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *