علامہ قاری عبدالوکیل صدیقی ؒ

qari1

علامہ قاری عبدالوکیل صدیقی ؒ

تحریر۔ خواجہ محمد زبیر ۔ اہل حدیث یوتھ فورس خان پور

قاری عبدالوکیل صدیقی  1مارچ بروز جمعة المبارک کو لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی نماز جنازہ ان کے آبائی شہر ہری پور ہزارہ میں ادا کی گئی دور دراز سے چاہنے والوں کی بتدریج پہنچنے کی وجہ سے نماز جنازہ 7بار ادا کی گئی ہر بار ہزاروں افراد نے شرکت کی خان پور سے بھی تقریبا 200سے زاہد افراد نماز جنازہ کے لئے گئے

۔07مارچ بروز جمعرات جامعہ محمدیہ اہل حدیث خان پور میں بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں علماء کرام کے علاوہ سیاسی ،سماجی ،مذہبی رہنمائوں و دیگر ہزاروں کی تعداد میں افراد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر قاری صاحب کے بڑے صاحبزادے عامر صدیقی کی دستار بندی بھی کی گئی اور مرکز کا امیر مقرر کیا گیا ۔ مرکزی جمیعت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر اور معروف عالم دین قاری عبدالوکیل صدیقی    جمعةالمبارک کی صبح پونے سات بجے لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں وفات پا گئے جہاں قاری عبدالوکیل صدیقی   کی وفات جمیعت اہل حدیث کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے وہاں خانپور کے شہریوں کیلئے بھی یہ جانقاہ صدمہ ہے ۔ قاری عبدالوکیل صدیقی    1955میں خیبر پختونخواہ کے ضلع ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کی اعلیٰ دینی تعلیم کیلئے جامعہ اسلامیہ گجرانوالہ میں داخلہ لیا اور دوران تعلیم اپنے وقت کے معروف علماء اور محدثین سے کسب فیض کیا قاری عبدالوکیل صدیقی    علوم و معارف میں اپنے عظیم اساتذہ کا پر تو تھے ہمہ وقت تدریس و اشاعت دین میں منہک رہے کہ عمر عزیز کا ایک ایک لمحہ اسکی نذر کر دیا قاری عبدالوکیل صدیقی    مروجہ دینی علوم و فنون کی تکمیل کے بعد 2 جولائی 1974کو خان پور کی جماعت کی دعوت پر تشریف لائے اور یہاں کی قدیمی جامع مسجد اہل حدیث محلہ خواجگان میں فائز ہوئے خانپور اور اسکے قریب و جوار میں کتاب و سنت کی دعوت کو پھیلانے میں قاری عبدالوکیل صدیقی    اور انکے رفقاء گرامی کی درخشاں خدمات اب تاریخ اہل حدیث بالخصوص اور تاریخ خانپور کا بالعموم مستقل حصہ بن چکی ہیں آپ جب خان پور تشریف لائے تو آپکی عمر تقریبا 17سال کے قریب تھی داڑھی کے چند بال تھے آپ بہت خوبصورت اور بے باک نوجوان تھے آپ نے محلہ خواجگان کی خستہ سی مسجد سے خطابت کی ابتدا کی لیکن کسی عوامی جلسے سے خطاب نہیں کیا اس لئے لوگوں کو آپ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا اس دوران کچھ عرصہ بعد تحریک ختم نبوت ۖ شروع ہوئی تمام مکاتب فکر کے علماء نے رات کے وقت غلہ منڈی کی جامع مسجد سے خطاب کیا تھا اس موقع پر اہل حدیث جماعت کی طرف سے صرف 2آدمی قاری عبدالوکیل صدیقی   اور ماسٹر عطاء اللہ اس مجلس میں شریک ہوئے جب قاری عبدالوکیل صدیقی    نے خطاب کیا تو لوگوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ اتنا با ہمت اور بے باک مقرر بھی خانپور میں موجود ہے دوسرے روز چوک رازی میں پروگرام سے بھی آپ نے خطاب کیا جس کو لوگوں نے بہت سراہا تیسرے اور چوتھے دن بعد علماء کی گرفتاریاں شروع ہوئیں تو مولانا سراج احمددین پوری کے ہمراہ آپ کو بھی گرفتار کیا گیا لوگ آپکو بار بار یاد کرتے تھے اور کہتے تھے کہ انہیں گرفتار نہیں کرنا چاہیے تھا اس طرح آپ عوام میں بے حد مقبول ہوئے  ان کا آبائی علاقہ اگرچہ ہری پور ہزارہ تھا لیکن اہل خان پور کی محبت نے انہیں خان پور ی بنا دیا تھا وہ جہاں کہیں بھی جاتے خان پو ر کا لاحقہ ان کے نام کا حصہ رہا آپ دینی علوم و فنون کے ماہر سمجھے جاتے تھے علمی اعتبار سے نہایت پختہ اور راسخ العقیدہ شخصیت تھے قاری عبدالوکیل صدیقی    ایک جید عالم دین ،مفسر قرآن ، بے باک مبلغ اور یگانہ روزگار مدرس تھے انہوں نے خانپور کے علاقے رحمان کالونی میںمدرسہ جامعہ محمدیہ اہل حدیث قائم کیا جس کی سنگ بنیاد امام کعبہ فضیلةالشیخ محمد بن عبداللہ السبیل   نے 1986میں رکھی جو مرکز اہل حدیث کے نام سے پورے پاکستان میں اپنی مثال آپ ہے ابتداء میں یہ ایک چھوٹہ مدرسہ تھا جو کہ اللہ کے فضل و کرم اور مخلص احباب و اخوان کے تعاون آج ایک عظیم جامعہ کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔قاری عبدالوکیل صدیقی اس دنیا میں پھر نہیں آئیں گے لیکن ان کی دعوت زندہ ہے جب تک حق و صداقت کے پاس دار موجود ہیں ۔قاری عبدالوکیل صدیقی باقی ہیں۔۔۔!!! کیونکہ حق کو ہمیشہ دوام نصیب ہوتا ہے جو ابدی اور لافانی سچائیوں کی ایسی مشعل ہے کہ جو ظلمت کدوں میں صدق و فا کی روشنی بکھیرتی ہے اور کذب و افتداء کی بنیادوں کو مٹا دیتی ہے یہی قاری عبدالوکیل صدیقی    کی زندگی کا آورش تھا۔وہ تو نہیں رہے لیکن ان کا مشن دعوت قرآن و سنت انشاء اللہ تا قیامت تک جا ری رہے گا۔


 

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *