پسند کی شادی کر نے پر لڑکی کے والدین نے لڑکے کے چچا کو گن پوائنٹ پر اغواء کر لیا

07-01-2014crime1

 

خان پور (نامہ نگار)پسند کی شادی کر نے پر لڑکی کے والدین نے لڑکے کے چچا کو گن پوائنٹ پر اغواء کر لیا۔بازیاب کرنے کے لئے جانیوالی پولیس پارٹی سے اغواء کاروں نے مدعی مغوی کے بھائی کو چھین لیا۔دونوں بھائیوں پر پولیس کی آنکھوں کے سامنے تشدد’ایک گھنٹے بعد ایک بھائی کو رہائی مل گئی۔واقعہ کے مطابق تھا نہ سہجہ کے علا قہ بستی لعلو خان کے رہائشی مسور خان خشک کی بیٹی یاسمین نے آصف نامی شخص سے عدالت جاکر پسند کی شادی کرلی جو لڑکی کے والد مسور خان کو نا گوار گزرا جس پر بدلے میں مسور خان نے اپنے درجنوں مسلح ساتھیوں کی مدد سے لڑکی کے خاوند آصف کے چچا شبیر احمد کو اس وقت گن پوائنٹ پر اغواء کر لیا جب وہ گڑھی اختیار خان سے اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔اغواء کاروں نے مغوی شبیر کو اپنے گھر لے جاکر اسے چار پائیوں سے باندھکر اسے تشدد کا نشانہ بنا نا شروع کردیاجس پر مغوی کے بھائی رسول بخش نے جب تھا نہ سہجہ جاکر اپنے بھائی کے اغواء کی اطلاع دی تو پولیس پارٹی مدعی رسول بخش کے ہمراہ مغوی شبیر احمد کو بازیاب کرانے کے لئے اغواء کوروں کت گھر پہنچی تو اغواء کاروں نے پولیس سے مغوی کے بھائی مدعی رسول بخش کو پولیس پارٹی سے جھگڑ کر چھین کر اسے بھی اسکے مغوی بھائی کے ساتھ باندھ دیا اور تشدد کا نشانہ بناتے رہے جبکہ پولیس اہلکار بے بس ہوکر ایک گھنٹے کی منت سماجت کے بعد مغوی شبیر احمد کو تو اغواء کاروں سے چھڑا لیا جبکہ جس مدعی کو اغواء کاروں نے پولیس سے چھینا تھا وہ واپس نہ لیا جس کو کئی گھنٹے تک اغواء کاروں نے تشدد کرنے کے بعد اسکے ورثاء کی مدا خلت پر اسے آزاد کیا گیا۔بعد ازاں مدعی در خواست گزار رسول بخش خشک نے صحا فیوں کو بتا یا کہ پولیس کی نا اہلی کی وجہ سے اغواء کاروں نے مجھے پولیس سے چھین کر مجھے انکے سامنے تشدد کا نشانہ بنا یا اور جس میرے بھائی کو پولیس نے بازیاب کرایا ہے اسکو پولیس نے کہیں چھپا رکھا ہے اور ہمیں ملنے تک نہیں دیا جارہا۔دوسری طرف پسند کی شادی کرنیوالی لڑکی مسماة یاسمین کا کہنا تھا کہ میرے والدین میری مرضی کی شادی کرنے پر راضی نہ تھے میں نے اپنی آزاد مرضی سے عدالت جاکر شادی کی ہے اور اسی رنجش کی بنیاد پر وہ ہم دونوں میاں بیوی کو قتل کرنے کے درپے ہیں ۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم خوف کی وجہ سے چھپ کر زندگی بسر کررہے ہیں کیونکہ ہماری جان کو خطرہ ہے ۔دونوں میاں بیوی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور صدر پاکستان سے تحفظ اور انصاف کی اپیل کی ہے۔ایس ایچ او تھانہ سہجہ صفدر حسین سندھو نے اپنے موقف میں شبیر احمد کو مسور خان کی جانب سے اغواء کرنا تو تسلیم کرلیا مگر مدعی رسول بخش کو پولیس پارٹی سے چھیننے کے واقعہ کی تردید کی۔

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *