ایک زندگی قبیح رسم وٹہ سٹہ کی بھینٹ چڑھ گئی رپورٹ ہاشم عبداللہ

ایک زندگی قبیح رسم وٹہ سٹہ کی بھینٹ چڑھ گئی

خان پور کے نوجوان 25 سالہ حافظ قرآن عمران ممتاز بھٹی کا قتل وٹہ سٹہ کی شادی کی وجہ سے ہوا، اور ایک زندگی اس قبیح رسم کی بھینٹ چڑھ گئی عمران کے والد ممتاز نے کہا کہ اگر تم نے اقبال کی لڑکی سے شادی کرنے سے انکار کردیا تو تمہاری بہن کی زندگی برباد ہوجائے گی اور وہ اسے چھوڑ دیں گے اس طرح لڑکی اور لڑکے کے انکار کے باوجود زبردستی یہ شادی کردی گئی

 

خا ن پور (رپورٹ ہاشم عبداللہ) خان پور کے نوجوان 25 سالہ حافظ قرآن عمران ممتاز بھٹی کا قتل وٹہ سٹہ کی شادی کی وجہ سے ہوا، اور ایک زندگی اس قبیح رسم کی بھینٹ چڑھ گئی ۔تفصیلات کے مطابق قائد ملت کالونی کے ممتاز بھٹی اور اقبال بھٹی سگے بھائی تھے ان کی شادی دو سگی بہنوں سے ہوئی اس طرح عمران ممتازاور اس کی بیوی سائرہ اقبال میں دوہرا رشتہ تھا دونوں بھائیوں اور دونوں بہنوں نے اپنے خاندان کو مزید قریب لانے کیلئے ایک دوسر ے کی اولاد وں میں شادیاں کیں ،عمران ممتاز کی بہن سائرہ اقبال کے بھائی سے بیاہی ہوئی تھی اور اس کے وٹہ میں سائرہ اقبال کی عمران ممتاز سے شادی کی گئی ۔مبینہ طور پر سائرہ اقبال نے شادی پہلے ہی عمران سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا جبکہ عمران بھی اس شادی کیلئے رضامند نہیں تھا لیکن عمران کے والد ممتاز نے کہا کہ اگر تم نے اقبال کی لڑکی سے شادی کرنے سے انکار کردیا تو تمہاری بہن کی زندگی برباد ہوجائے گی اور وہ اسے چھوڑ دیں گے اس طرح لڑکی اور لڑکے کے انکار کے باوجود زبردستی یہ شادی کردی گئی اور با خبر ذرائع کے مطابق میاں بیوی کے درمیان پہلی رات سی ہی نہ چاکی کا سلسلہ شروع ہوگیا لڑکی نے کئی مرتبہ اپنے گھر والوں سے طلاق کا مطالبہ کیا کہ اسے اس کے خاوند عمران ممتاز سے طلاق دلوائی جائے جس پر لڑکی کی ماں نے کہا کہ ہم نے اگر تمہاری طلاق لی تو ہماری بہو اور تمہاری بھابھی بھی طلاق کا مطالبہ کرے گی اگر ہم نے اسے طلاق دے دی تومیری بہن یعنی تمہاری خالہ کو بھی طلاق ہوجائے گی اور اگر میری بہن کو طلاق ہوئی تو مجھے بھی طلاق ہوجائے گی کیا تم ماں کو بھی طلاق دلوانا چاہتی ہو ۔۔۔۔؟ ۔اس طرح وٹے سٹے کی ڈور سے بندھے رشتے مجبوریوں اور انا کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی برقراررہے ۔لیکن لڑکی سائرہ اقبال کے اندر یہ آگ سلگتی رہی اور وہ اپنے خاوند عمران ممتاز سے پیچھا چھڑانے کے منصوبے بناتی رہی ،آخر کار اس نے رحیم یارخان کے رہائشی اپنے محبوب شاہ جہاں سے مل کر عمران ممتاز کوراستے سے ہٹانے کا پروگرام بنا لیا چنانچہ وقوعہ کی شب شاہ جہاں عرف اجی اپنے دوست عثمان عادل کے ہمراہ خا ن پور آیا اور اپنے کزن اور دوست وقاص کے گھر قیام کیا اس دوران سائرہ اقبال سے موبائل پر مسلسل اس کا رابطہ رہا چنانچہ پروگرام کے مطابق سائرہ اقبال نے وقاص نامی لڑکے سے نیند آور گولیاں منگواکر اپنی ساس سسر یعنی ممتاز بھٹی اور اس کی بیگم کو کھانے میں ملا کر کھلا دیںاور جب سب لوگ سوگئے تو وقاص نے اپنے گھر کی چھت سے جو کہ عمران ممتاز کے گھر کی چھت سے متصل تھی کے ذریعے شاہ جہاں اور عثمان عادل کو چھت پھلانگ کر عمران ممتاز کے گھر جانے میں ان کی مدد کی ۔سائرہ ان کے استقبال کیلئے پہلے ہی وہاں پر موجود تھی وہ شاہ جہاں اور عادل کو اس کمرے میں لے گئی جہاں پر عمران رضائی اوڑھے سو رہا تھا ان تینوں نے عمران ممتاز کو قابو کرلیا اور اور سائرہ اقبال کے دوپٹے سے اس کا گلہ گھونٹ کر ہلاک کردیا ۔عمران ممتاز کو قتل کرنے کے بعد لاش کو ٹھکانے لگانے کی فکر تھی چنانچہ ان دونوں نے موٹر سائیکل پر لاش کو درمیان میں ایسے بٹھایا جیسے کوئی مریض ہواور صبح کے وقت نکل  پڑے لیکن راستے میں موٹر سائیکلخراب  ہوگئی، موٹرسائیکل کے خراب ہونے پر انہوں نے وقاص سے فون کرکے موٹر سائیکل منگوائی اور اس پر لاش کو اسی طرح رکھ کر عباسیہ نہر کے قریب آئے کیونکہ ان کا پروگرام لاش عباسیہ نہر میں پھینکنا تھا لیکن وہاں چہل پہل دیکھ کر انہوں نے لاش سے جان چھڑانے کیلئے اسے سبزہ زار کالونی میں ہی پھینکا اور فرار ہوگئے اور اپنی کامیابی کی اطلاع موبائل پر کال کرکے سائرہ اقبال کو کردی ۔قاتل مقتول کی نماز جنازہ میں بھی شریک رہے اور قل خوانی پر بھی موجود تھے ۔پولیس کو دوران تفتیش چوکیدار کے ذریعے واردات میں استعمال ہونے والے موٹر سائیکل کا نمبر معلوم ہوچکا تھا ۔لاش کو ٹھکانے لگانے کیلئے لے جاتے ہوئے  کئی لوگوں نے انہیں دیکھا مگر ہر کوئی یہ سمجھا کہ کوئی مریض ہے جسے ہسپتال لے جایا جارہا ہے اس لئے کسی نے شک کی نظر سے نہ دیکھا مگر عینی شاہدین کے مطابق درمیان میں بیٹھے مریض کے پیر زمین پر ہی لٹک رہے تھے۔مقتول کی بیوی سائرہ اقبال کو جب گرفتا کیا گیا تو اس نے با آواز بلند اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ ہاں میں نے ہی عمران کو قتل کروایا ہے کیونکہ مجھے اس سے نفرت تھی ۔پولیس نے چاروں ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے موبائل فون ،سمیں اور موٹر سائیکل قبضے میں لے لی ہیں تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس اندوہناک قتل کی وجہ وٹہ سٹہ کی شادی ہے جس نے چار ہنستے مسکراتے گھرانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے ۔سائر ہ اقبال کا والد سعودیہ میں ہے جبکہ عمران ممتاز کا والد حال ہی میں سعودیہ سے آیا ہے ۔

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *